خلاصه هوش مصنوعی
Resume IA: کیا تعویذات جائز ہیں؟ ساتویں عہد میں علومِ غیبیہ presente les idees centrales suivantes: امام عبداللہ ہاشم اس بات پر روشنی ڈالتے ہیں کہ آیا تعویذات بنانا اور علومِ غیبیہ کا مطالعہ کرنا جائز ہے، اور علم اور اس کے نقصان دہ استعمال کے درمیان تمیز کرتے ہیں۔
توضیحات کامل
اس حصے میں، اکبر کی جانب سے ساتویں عہد کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیا گیا ہے۔ یہ استفسار حفاظت کے لیے تعویذات بنانے اور بد جادوگروں سے مقابلہ کرنے کے لیے 'سفید جادو' سیکھنے کی اجازت پر مرکوز ہے۔
جواب میں واضح کیا گیا ہے کہ تعویذات ممنوع نہیں ہیں اور ان کا استعمال مختلف ثقافتوں اور مذاہب، بشمول یہودی روایت اور اسلام، میں ہوتا رہا ہے۔ نبی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ائمہ کرام سے منقول خاص روایات کا حوالہ دیا گیا ہے جو کاغذ، ہرن کی کھال پر لکھے گئے یا انگشتریوں پر کندہ کیے گئے تعویذات کی تفصیل دیتی ہیں جو حفاظت اور روزی کے لیے استعمال ہوتے تھے۔
علم اور عمل کے درمیان ایک اہم فرق کھینچا گیا ہے: جادو، حتیٰ کہ کالا جادو، کے بارے میں جاننا بذاتِ خود حرام نہیں ہے جب تک کہ اسے دوسروں کو نقصان پہنچانے یا ان پر اثر انداز ہونے کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔ مقرر نے اس کا موازنہ سیل فون کے استعمال سے کیا ہے، جو اس وقت تک جائز ہے جب تک کہ اسے ممنوعہ مواد کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔
اگرچہ الصقراط اور شمس المعارف جیسی مستند کتابوں کا ذکر کیا گیا ہے، نیز ہندوستان اور مراکش کے ماہرین کا بھی، لیکن بنیادی مشورہ یہ ہے کہ باطنی علوم پر دعوت، توحید اور امامِ زمانہ کی تعلیمات سیکھنے کو ترجیح دی جائے۔
برچسبها:the-mahdi-has-appearedhall-of-mysteries
سخنرانان:Disciples AROPLModerateur missionnaire
دسته: the-mahdi-has-appeared | زیردسته: hall-of-mysteries